30 دسمبر 2011 - 20:30

آل خلیفہ کے گماشتوں نے بحرین کے علاقے "السترہ" میں 15 سالہ بچے "سید ہاشم سید سعیدعیسی" کو اپنے گھر کے سامنے گاڑی کی ٹکر مار کر شہید کردیا۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بحرینی بچے کو خلیفی جلادوں نے گولی مار کر شہید کردیا ہے / شہید سید ہاشم سید سعید عیسی کی شہادت کی کیفیت

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کےمطابق آل خلیفہ کے جلادوں نےبحرینی عوام کو گاڑیوں سے کچلنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج السترہ کے علاقے میں اپنے گھر کے سامنے کھڑے 15 سالہ بحرینی سیدزادے بچے کو بلااشتعال گاڑی سے کچل کر شہید کردیا۔ہاشم سعید کو خلیفی گماشتوں نے ٹکر ماری تو وہ شدید زخمی ہوگئے اور انہیں فوری طور پر السلمانیہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں یہ نوعمر بحرینی شہری زخموں کی تاب نہ لا کر جام شہادت نوش کرگئے۔عجبب بات یہ ہے دنیا کی تمام نام نہاد انسانی حقوق کے تمام جھوٹے دعویدار آل خلیفہ کی حمایت کررہے ہیں اور مسلمان ممالک بھی اس کو سنی مسلمان حکومت سمجھ کر اس کی حمایت کرتے ہیں یا کم از کم بحرینی عوام کے مشترکہ انقلاب کی حمایت سے گریز کررہے ہیں جس میں شیعہ اور سنی عوام برابر کے شریک ہیں جبکہ آل خلیفہ کے کرتوت صہیونی ریاست کے کرتوتوں سے کہیں زیادہ وحشیانہ اور غیر انسانی ہیں اور اگر اسرائیلی کئی سالوں میں ایک بار کسی فلسطینی بچے کو کچل کر شہید کرتے ہیں تو آل خلیفہ کے گماشتے ہر روز گاڑیوں سے عوام کو کچلنے کے لئے میدان میں نکلتے ہيں اور کبھی اس غیر انسانی اور غیر اسلامی عمل میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ بحرین میں نوعمر لڑکے کی شہادت پر انقلاب بحرین کے شہداء کی تعداد چھپن ہوگئی ہے۔

بحرین میں نئے سال کی آمد آمد پر عوامی مظاہروں نے شدت پکڑ لی ہے اور خلیفیوں اور سعودیوں کی موجودگی اور سڑکوں پر آل خلیفہ کے کرائے کے غنڈوں کے گشت کے باوجود کل لاکھوں بحرینیوں نے چھ کلومیٹر طویل ریلی نکال کر آل خلیفہ اور ان کے علاقائی اور بین الاقوامی آقاؤں کو بری طرح خوفزدہ کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ نے آل خلیفہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ 31 دسمبر تک عوامی انقلاب کا خاتمہ نہ کریں تو  حکومت کی تبدیلی کے لئے تیار رہیں اور آج 31 دسمبر ہے۔

اپڈیٹ - تصحیح:شہید سید ہاشم سید سعید عیسی کو خلیفیوں نے گولی مار کر شہید کیا ہے۔14 فروری انقلابی نوجوانوں کے اتحاد نے اس سلسلے میں ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے اور وضاحت کی ہے کہ آل خلیفہ کے جلادوں نے السترہ کے علاقے میں متعدد افراد کو گاڑیوں کی ٹکر یا گولیاں مار کر زخمی کردیا ہے جن میں سید ہاشم سید سعید عیسی بھی شامل تھے جن کو سر میں گولی لگی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق نوعمر سید زادے کے سر اور گردن میں زہریلی گیس کا گولہ لگا ہے جس سے ان کی شہادت واقع ہوئی ہے۔ انقلابی نوجوانوں کے اتحاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہید شدید زخمی ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک زمین پر پڑے رہے تھے اور اس کے بعد انہیں آل خلیفہ و آل سعود کی فوجوں کے زیر قبضہ اسپتال السلمانیہ منتقل کیا گیا جہاں وہ شہید ہوگئے۔

شہید سید ہاشم سید سعید عیسی کی شہادت کی کیفیتخلیفی جلادوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے 15 سالہ سید زادے کے چچا سید علی عیسی نے العالم نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے بھتیجے کی شہادت کی کیفیت بتاتے ہوئے کہا: کل 31 دسمبر کو لوگوں نے اپنے گھروں کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا اور سید ہاشم بھی اپنے گھر کے سامنے دھرنے میں شریک تھے کہ اسی وقت پر امن دھرنوں پر خلیفی جلادوں کے وحشیانہ حملوں کا آغاز ہوا اور شہید ہاشم زخمی ہوئے اور لوگوں نے انہیں اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن خلیفی جلادوں نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا جس کی وجہ سے ان کی شہادت واقع ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے خلیفی حکمرانوں کے گھروں کے سامنے نہیں بلکہ سترہ میں اپنے گھروں کے سامنے دھرنا دیا تھا اور میں زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ دھرنا بالکل پرامن تھا اور کسی قسم کی جھڑپ نہیں تھی اور جب آل خلیفہ کے گماشتوں نے حملہ کیا تو سید ہاشم کو براہ راست گولے کا نشانہ بنایا اور گیس گولہ ان کی گردن میں لگا جبکہ دنیا کا عرف یہ ہے کہ جب سڑکوں پر مظاہرہ ہورہا ہو اور حکومت اس کو منتشر کرنا چاہے تو لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس استعمال کی جاتی ہے لیکن یہاں کوئی مظاہرہ نہیں ہورہا تھا اور پھر خلیفیوں نے گولہ زمین پر نہیں پھینکا بلکہ بہت کم فاصلے سے شہید کی گردن کو نشانہ بنایا۔انھوں نے کہا: شہید سید ہاشم کو گولہ لگا تو وہ زمین پر گرگئے اور اس کے بعد تقریباً 20 خلیفی جلادوں نے انہیں گھیرے میں لیا اور ان کے مجروح جسم کو لاٹھیوں سے زد و کوب کیا جس کی وجہ سے گردن پر لگے زخم سے کافی خون بہہ گیا۔انھوں نے کہا کہ دھرنا دینے والوں نے سید ہاشم کو اسپتال منتقل کرنے کی کافی کوشش کی لیکن درندہ صفت خلیفی گماشتوں نے انہیں روک لیا جس کی وجہ سے عوام کا غصہ قابو میں نہ رہا اور خلیفی غنڈوں کو عوامی مزاحمت کا سامنا کرکے پسپا ہونا پڑا اور یوں شہید کے زخمی اور مضروب جسم کو 10 منٹ خون بہنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا لیکن خلیفیوں کی ممانعت کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کی وجہ سے سید ہاشم جانبر نہ ہوسکے اور شہید ہوگئے۔ انھوں نے کہا: سید ہاشم کو غنڈوں کے نرغے سے نکالنے کے لئے مزاحمت کرنے والے کئی نوجوان زخمی بھی ہوگئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110